خرید بک لینک


جب سے انسان نے بولنا سیکھا ہے تب سے الفاظ'>الفاظ کا دامن تھامے ہوئے ہے۔ الفاظ ضمیر کا آئینہ ہوتے ہیں۔ ما فی الضمیر کی دبیز تہوں میں دبے ہوئے مفاہیم کو خوبصورت لبادہ پہنا کر مجسم صورت میں مخاطب کے سامنے لے آتے ہیں اور پھر مخاطب آن کی آن میں آپ کے ذہن تک پہنچ جاتا ہے، آپ کے دل کا حال پڑھ لیتا ہے، آپ کے گلستانِ افکار میں سیر کرنے لگتا ہے اور آپ کی سوچوں کی انگلی پکڑ کر آپ کے ساتھ ساتھ ٹہلنے لگتا ہے۔

ہاں!

الفاظ آپ کے خیالات کے ترجمان ضرور ہوتے ہیں مگر اس کے لیے شرط ہے کہ مخاطب اس ترجمانی کو سمجھنے کی اہلیت بھی رکھتا ہو۔ آپ مخاطب کو اسی وقت اپنے افکار کا ہم سفر بنا سکتے ہیں جب آپ اس کی ذہنی کیفیات اور فکری سطح تک رسائی رکھتے ہوں۔ اس کی سوچ کے زاویے آپ کی دسترس میں ہوں۔ اس کے سوچنے کے انداز سے آپ واقف ہوں۔ آپ کی زبان سے نکلے ہوئے الفاظ کتنی دیر میں اور کس حد تک اس کے ذہن تک آپ کا مافی الضمیر پہنچاتے ہیں، یہ بھی آپ کو معلوم ہو۔

ورنہ

آپ اپنی بات اس تک پہنچانے میں بری طرح ناکام ہوں گے۔

یاد رکھیے!

لوگوں سے یہ توقع نہ رکھیے کہ وہ آپ کی سطح پر آ کر سوچیں گےبلکہ آپ کو ان کی فکری سطح تک جا کر اپنی بات پہنچانا ہو گی کیونکہ اگر ان کا آپ کی سطح تک آنا ممکن ہوتا تو خطیبِ نہج البلاغہ کے استاد، کائنات کے سب سے عظیم خطیب حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کبھی بھی یہ نہ فرماتے:

إِنَّا مَعَاشِرَ الْأَنْبِيَاءِ أُمِرْنَا أَنْ نُكَلِّمَ النَّاسَ عَلَى قَدْرِ عُقُولِهِمْ۔ [الكافي (ط - الإسلامية)، ج 1، ص: 23]

’’ہم انبیاء کو حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں کی فکری سطح کے مطابق ان سے بات کریں۔‘‘

اور امام جعفر صادق علیہ السلام نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اسی خوبی کو اسی روایت کے ابتدائی حصے میں بیان فرمایا:

مَا كَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ ص الْعِبَادَ بِكُنْهِ عَقْلِهِ قَطُّ۔ [الكافي (ط - الإسلامية)، ج 1، ص: 23]

’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کبھی بھی لوگوں سے اپنی فکری سطح کے مطابق بات نہیں کی۔‘‘

حدیث کے الفاظ میں لفظ ’’قَطُّ‘‘ (ہرگز) کس حد تک تاکید کر رہا ہے، اس کا ادراک صاحبان ادب کو بخوبی ہے۔

آخر اس کی وجہ کیا ہے کہ انبیاء لوگوں سے ان کی فکری سطح پر بات کرتے رہے؟ وجہ یہ تھی کہ لوگ الفاظ کو اپنی فہم کے مطابق سمجھتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بعض اوقات غلط مطلب اخذ کر بیٹھتے ہیں۔

اور عوام الفاظ کو کیسے اپنے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں، اس کی بہترین مثال قرآن مجید نے ہمیں دی ہے:

يا أَيُّهَا الَّذينَ آمَنُوا لا تَقُولُوا راعِنا وَ قُولُوا انْظُرْنا وَ اسْمَعُوا وَ لِلْكافِرينَ عَذابٌ أَليمٌ۔ [بقرۃ: 104]

’’اے ایمان والو!’’رَاعِنَا‘‘ نہ کہا کرو بلکہ (اس کی جگہ) ’’ اُنْظُرْنَا‘‘ کہا کرو اور (رسولؐ کی باتیں) توجہ سے سنا کرو اور کافروں کے لیے تو دردناک عذاب ہے۔‘‘

لفظ ’’رَاعِنَا‘‘ کی شکل ایسی ہے کہ عربی زبان کے دو مصادر اس کا منبع ہو سکتے ہیں۔ اگر اسے مصدر’’الرعی‘‘سے مشتق مانا جائے تو اس کامعنی ہے ’’مہلت دینا‘‘ اور اگر مصدر ’’الرّعونۃ‘‘ سے مشتق سمجھا جائے تو اس کا مطلب ہے ’’بے وقوف اور احمق بنانا‘‘۔

تفاسیر اس آیت کا شان نزول بتاتی ہیں کہ مسلمان جب سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی محفل میں بیٹھے ہوتے تھے تو لفظ ’’رَاعِنَا‘‘ سے آپؐ کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کرتے۔ اس وقت مسلمان اسی پہلے معنی میں اس لفظ کو استعمال کرتے تھے مگر یہودی اسی لفظ کو دوسرے معنی میں استعمال کر کے مسلمانوں اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا مذاق اڑاتے اور استہزاء کرتے۔

اب سامعین کے ماحول کے مطابق اس لفظ کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے خداوند کریم نے مسلمانوں کو اس لفظ کے استعمال سے منع کر دیا جس سے دشمن سوئے استفادہ کرے اور اس کا متبادل لفظ دیا ’’اُنْظُرْنَا‘‘ (ہماری طرف بھی توجہ دیجیے)۔

اس آیت نے نہ صرف یہ کہ ہمیں اپنی گفتگو، خطاب اور تقریر میں ذومعنی الفاظ استعمال کرنے سے منع کیا ہے بلکہ اس مسئلے کا متبادل بھی پیش کیا ہے۔ تربیت کے حوالے سے قرآن مجید کا یہ خوبصورت انداز ہے کہ جب وہ کسی چیز سے منع کرتا ہے تو اگر وہ چیز تبادل کے قابل ہو تو اس کا متبادل بھی پیش کر دیتا ہے۔

یہ آیت اس سلسلے میں ہماری سب سے بڑی رہنما ہے۔ ممکن ہے آپ حسنِ نیت سے ایک لفظ استعمال کریں مگر مخاطب اپنی کم علمی ، کج فہمی یا بدنیتی سے اسی لفظ کوکسی غلط اور خلافِ حقیقت معنی میں استعمال کر بیٹھے، جس کا نتیجہ یہ نکلے کہ آپ جن الفاظ کے ذریعے لوگوں کی ہدایت کرنا چاہ رہے ہوں انہیں الفاظ کے ذریعے وہ گمراہ ہو جائیں یا گمراہ کر دیے جائیں۔

یاد رکھیے!

دشمن آپ کے ایک ایک لفظ پر نظر رکھے ہوئے ہے اور وہ آپ کی زبان سے نکلے ہوئے ہر لفظ کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے اور نہ صرف چاہتا ہے بلکہ استعمال کرنا جانتا بھی ہے۔

اور یہ بھی یاد رکھیے!

*اردو* ایک لشکری زبان ہے، جس کی تشکیل میں بہت سی زبانوں کا حصہ ہے۔ مختلف زبانوں کے الفاظ ہجرت کر کے اس کے خیمے میں پناہ گزین ہوئے ہیں۔ مہاجر لفظوں کا اصول ہوتا ہے کہ ان میں سے اکثر جب کسی بھی نئی زبان میں جا کر آباد ہوتے ہیں تو وہاں اپنا معنی یا تو کلّی طور پر تبدیل کر لیتے ہیں یا جزوی طور پر اور بعض اوقات تو اس زبان میں ایک خاص اصطلاح بن جاتے ہیں۔ ان اصطلاحوں کا بھی اپنا اپنا حلقہ احباب ہوتا ہے۔ بعض اصطلاحیں اہل علم و فن کے نزدیک ایک اور معنی میں استعمال ہوتی ہیں اور عوام الناس کے ہاں ایک معنی میں۔ اس کے علاوہ کچھ الفاظ کسی خاص ہستی کے لیے مختص ہو جاتے ہیں تو ضروری ہے کہ انہیں اسی ہستی کے لیے مختص رہنے دیا جائے، چاہے گرائمر اور قواعد کی رو سے وہ کسی اور شخص کے لیے استعمال ہو سکتے ہوں۔

*یہی وہ اصل مقام ہے جہاں بہت سے خطباء لغزش کا شکار ہو جاتے ہیں اور ان کے حسن نیت سے استعمال کیے جانے والے الفاظ عوام کی ہدایت کی بجائے ان کی گمراہی کا باعث بن جاتے ہیں۔*

یاد رکھیے!

بلاغت کبھی بھی آپ کو ایسا لفظ استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیتی جو عوام میں تو ایک خاص معنی میں رائج ہو چکا ہو اور آپ بغیر قرینے کے اسے اپنے مطلوبہ معنی میں استعمال کر رہے ہوں۔

آپ اہل بیتؑ کو ’’ربّ‘‘ کہیں اور مربّی کے معنی میں لیں، بڑے شوق سے، مگر یہ بھی یاد رکھیں کہ یہ لفظ خاص ہو چکا ہے فقط ذات پروردگار جلّ جلالہٗ کے لیے۔ عربی زبان میں بھلے اس کے دوسرے معانی بھی رائج ہوں مگر آپ اردو زبان میں بات کر رہے ہیں اور اردو کی اپنی نزاکتیں ہیں، اپنے تقاضے ہیں۔ آپ تو اہل بیتؑ کو ’’ربّ‘‘ کہہ کر نکل جائیں گے مگر عوام اس سے’’مربّی‘‘ والا معنی لے رہی ہے یا ’’پروردگار‘‘ والا، اس کی آپ کیا ضمانت دیں گے؟

آپ کے نیت میں کسی کو کوئی شک نہیں۔ آپ حسنِ نیت رکھتے ہیں۔ لوگوں کی ہدایت آپ کا ہدف ہے۔ خدا آپ کو یقیناً اس کا اجر دے گا مگر جب آپ ایسے الفاظ استعمال کریں گے تو آپ کیا ضمانت دے سکتے ہیں کہ دشمن آپ کے ان الفاظ کے ساتھ وہی سلوک نہیں کرے گا جو عہدِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے یہودی مسلمان کے لفظ ’’رَاعِنَا‘‘ کے ساتھ کرتے تھے۔

اب آپ لاکھ دلیلیں دیتے رہیں، آپ کے چاہنے والے لاکھ تاویلیں پیش کرتے رہیں، مگر دشمن تو اپنا کام کر گیا نا۔ اسے کیسے روکیں گے آپ؟

یہ سچ ہے کہ ’’الفاظ کے پیچوں میں الجھتے نہیں دانا‘‘ مگر نادان عوام اور دانا دشمن کی کیا ضمانت ہے کہ وہ بھی آپ کی طرح الفاظ میں نہیں الجھیں گے؟

نہیں محترم خطباء!

دشمن خود تو آپ کی زبان سے نکلے ہوئے الفاظ کے پیچوں میں نہیں الجھے گا کیونکہ وہ تو دانا ہے، ہاں البتہ آپ کے مخلص مگر کم علم یا بے علم سامعین کو ضرور ان پیچوں میں الجھا دے گا، بکھیر دے گا اور بالآخر تباہ کر دے گا۔

خطیبِ نہج البلاغہ کے اس جملے پر اپنی بات ختم کرتا ہوں، البتہ یہ جملہ آپ کے جملوں کی طرح خطیبانہ نہیں ہے بلکہ حقیقت پسندانہ ہے:

الْكَلَامُ فِي وَثَاقِكَ مَا لَمْ تَتَكَلَّمْ بِهِ فَإِذَا تَكَلَّمْتَ بِهِ صِرْتَ فِي وَثَاقِهِ فَاخْزُنْ لِسَانَكَ كَمَا تَخْزُنُ ذَهَبَكَ وَ وَرِقَكَ فَرُبَّ كَلِمَةٍ سَلَبَتْ نِعْمَةً وَ جَلَبَتْ نِقْمَة۔ [نہج البلاغہ: حکمت 381]

’’گفتگو تمہارے قبضے میں ہے جب تک اس کا اظہار نہ ہو جائے۔ اس کے بعد پھر تم اس کے قبضے میں چلے جاتے ہو۔ لہٰذا اپنی زبان کو ویسے ہی محفوظ رکھو جیسے سونے چاندی کی حفاظت کرتے ہو، کیونکہ بعض کلمات نعمتوں کو سلب اور عذاب کو جذب کر لیتے ہیں۔‘‘

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

*[عباس ثاقبؔ]*

برچسب: نویسنده: بهراد دادخواه تاريخ: پنجشنبه 16 آبان 1398 ساعت: 22:51

صفحه بندی